
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں علامہ اقبال جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی ............ باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا علامہ اقبال ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا...

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ علامہ اقبال مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ علامہ اقبال نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں علامہ اقبال حیا نہیں...

علامہ اقبال شاعری
علامہ اقبال شاعری ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں علامہ اقبال فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے علامہ اقبال علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں علامہ اقبال اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان...

مت پوچھ شیشے سے
مت پوچھ شیشے سے مت پوچھ شیشے سے اس کے ٹوٹ جانے کی وجہ اس نے بھی کسی پتھر کو اپنا سمجھ لیا ہوگا ............. سزا ہمیں کیسے ملی دل لگانے کے رو رہے ہیں مگر تمنا تھی مسکرانے کی اپنا درد کیسے دکھائیں اے دوست درد بھی اس نے دیا جو وجہ تھی مسکرانے کی ........... پہل کریں...

میرا ہر دن تیری ہر رات
میرا ہر دن تیری ہر رات میرا ہر دن تیری ہر رات سے اچھا ہوگا میرا ہر لفظ تیری ہر بات سے اچھا ہوگا یقین نا آئے تو آزما لینا میرا جنازه بھی تیری بارات سے اچھا ہو گا ........... بات دن کی نہیں اب رات سے ڈر لگتا ہے گھر کچا ہے میرا اب برسات سے ڈر لگتا ہے تم پیار کو چھوڑ کر...

دسمبر کی شام ہو جیسے
دسمبر کی شام ہو جیسے بن تیرے کائنات کا منظر دسمبر کی شام ہو جیسے درد ٹھہرا ہے آ کہ دل میں یوں عمر بھر کا قیام ہو جیسے ........... رضائی والوں سے ہی مزاق کرتی ہوگی سردی سڑکوں پہ دسمبر کئی سال لمبا ہوتا ہے ........... سردیاں بعد میں آتی ہیں شامیں پہلے اداس ہو جاتی ہیں...

دسمبر کا مہینہ
دسمبر کا مہینہ دل کی بربادیوں میں بھلا مہینوں کا کیا قصور دسمبر تو اک بہانہ ہے بے وفاؤں کو برا کہنے کا ........... کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں کہیں بکھرتی ہوئی دھول میں سوال ملیں ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں...

دسمبر نام ہے
دسمبر نام ہے بکھرتے رابطوں کا ہے بچھڑتے راستوں کا ہے دسمبر نام ہے جس کا مہینہ حادثوں کا ہے ............ کچھ تعلقات دسمبر اور جنوری کی طرح ہوتے ہیں رشتہ کافی نزدیک کا اور دوریاں پورے سال کی ........... کتنا چپ سا ہے یہ دسمبر نہ ہواؤں کا شور نہ بادلوں کی گونج بینی بینی...

دسمبر کی شاعری
دسمبر کی شاعری میرا دسمبر سے کوئی واسطہ نہیں میری بربادی میں پورا سال شریک تھا ........... وہ یاد آیا کچھ یوں کے لوٹ آئے سبھی سلسلے ٹھنڈی ہوا زرد پتے اور دسمبر کی پہلی بارش .......... نہ وہ ہوائیں نہ بارش نہ سردی کا وہ عالم دسمبر پہلے تو کبھی ایسے تیرا آنا نہ ہوا...

دل شاعری
دل شاعری دل کو پانی میں رکھ دیا میں نے آگ جیسی تھیں خوہشیں اس کی ........... دل تو کرتا ہے ہر وقت تیرے صدقے اتاروں اس قدر بھی کوئی خوبصورت ہوتا ہے ........... لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام اس طرح سے بنا لو مر جاؤ تو تمہارے لئے دعا کریں اگر زندہ ہو تو ملنے کی جستجو کریں...